کرونا حقیقت یا صرف ڑرامہ
اب اگر انصاف کی بات آہی گئی ہے تو پھر عمران خان صاحب کا ذکر بھی ضروری ہے, اس وبا کی صورتحال میں اگر تو نقصان ہوا ہے وہ صرف اور صرف غریب لوگ, وہ طبقہ جو دیہاڑی دار مزدور تھا, وہ لوگ جو دن بھر کام کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے, امیروں کی کیا ہی بات ہے وہ تو اپنی جمع پونجی سے سالوں سال گزارا کر لیں گے لیکن غریب عوام کا کیا بنے گا,انہیں انصاف کون دے گا.چلیں مان لیتے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت نے ریلیف فنڈ پیش کرکے غریب عوام کی مدد کی لیکن اس بارہ ہزار اور چار ہزار کی امداد سے ایک غریب آدمی اپنے چار سے پانچ مہینے کس طرح گزارے گا؟ اور اپنی عید جو کہ سال بعد آتی ہے وہ کیسے منائے گا؟ اس وبأ نے خوشیوں کے ساتھ ساتھ مالی حالات کے دروازے بھی بند کر دیے ہیں؟چلیں خیر یہ سب چلتا رہے گا سیاست اسی چیز کا نام ہے.
آجکل پیپلز پارٹی بھی ایک وبأ کا شکار ہے. یہ ایک ایسی وبأ ہے جس کا بیج 2011 میں بو دیا گیا تھا.لیکن اس کا اثر سن 2020 میں نظر آرہا ہے.جی ہاں تو اس وبا کا نام سنتھیا رچی ہے جو کہ ایک امریکی خاتون ہیں.جنہیں پورے نو سال بعد احساس ہوا کہ وہ ایک سیاسی پارٹی سے زیادتی کا شکار ہوئیں تھی.ان امریکی خاتون کے مطابق ان کی زیادتی کرنے میں پیپلز پارٹی کے کافی نامور سیاستدان ہیں.ان کا تعلق امریکی میڈیا سے ہے, اور دراصل یہ ساؤتھ ایشن میگزین کی پروڈیوسر اور ڈائریکٹر بھی ہیں.یہاں سوال یہ اٹھتا ہے یہ کون سی زیادتی ہے جس کا اثر پورے نو سال بعد ہوا ہے یا تو یہ اس پارٹی کو گندا کرنا چاہتی ہیں یا تو کوئی چال ہے انکی, یہ بھی ہوسکتا ہے کسی نے انہیں یہ مشن سونپا ہو, جس طرح مسلم لیگ نواز کا خاتمہ ہوا, اسی طرح اس پارٹی کو ختم کرنے کے لیے کوئی ثبوت نا ملنے پر یہ کوئی کھیل رچایا جا رہا ہو.بہرحال اس حقیقت سے کوئی وابسطہ نہیں نہ جانے اس کے پیچھے کیا راز ہے .لیکن امید رکھتے ہیں کہ جو بھی فیصلہ ہو اچھا ہو اس میں ہمارے ملک پاکستان کی عزت کا معاملہ ہے.بات یہی ہے ہمارا ملک پاکستان کئ مشکل راستوں سے گزر رہا ہے تو بہتر یہی ہے کے أپ سب اپنے گھروں میں محفوظ ریہں.



کیا کہنے بہت خوب
ReplyDeleteAwesome
ReplyDeleteKeep it up
ReplyDeleteBhtt umda
ReplyDelete